24 ستمبر، 2011، 9:16 AM

حضرت امام جعفر صادق (ع) کو منصور دوانقی نے زہر دیکرشہید کیا

حضرت امام جعفر صادق (ع) کو منصور دوانقی نے زہر دیکرشہید کیا

مہر نیوز- 24 ستمبر2011ء: حضرت امام جعفر صادق کااسم گرامی جعفر، آپ کی کنیت ابوعبداللہ ،ابواسماعیل اورآپ کے القاب صادق،صابروفاضل، طاہروغیرہ ہیں۔

مہر خبررساں ایجنسی نے تاری اسلام کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ حضرت امام جعفر صادق ۱۷/ ربیع الاول ۸۳ ھ مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے

امام جعفر صادق (ع) کی ولادت کی تاریخ کوخداوندعالم نے بڑی عزت و عظمت عطا کی ہے احادیث میں ہے کہ اس تاریخ کوروزہ رکھناایک سال کے روزہ کے برابرہے ولادت کے بعدایک دن حضرت امام محمدباقرعلیہ السلام نے فرمایاکہ میرایہ فرزندان چندمخصوص افراد میں سے ہے جن کے وجود سے خدانے بندوں پراحسان فرمایاہے اوریہی میرے بعد میراجانشین ہوگا۔

علامہ مجلسی تحریر کرتے ہیں کہ جب آپ بطن مادرمیں تھے تب کلام فرمایاکرتے تھے ولادت کے بعدآپ نے کلمہ شہادتین زبان پرجاری فرمایاآپ بھی ناف بریدہ اورختنہ شدہ پیداہوئے ہیں آپ تمام نبوتوں کے خلاصہ تھے۔۔

حضرت امام جعفر صادق کااسم گرامی جعفر، آپ کی کنیت ابوعبداللہ ،ابواسماعیل اورآپ کے القاب صادق،صابروفاضل، طاہروغیرہ ہیں علامہ مجلسی رقمطرازہیں کہ آنحضرت نے اپنی ظاہری زندگی میں حضرت امام جعفربن محمد(ع)کولقب صادق سے ملقب فرمایاتھا اوراس کی وجہ بظاہریہ تھی کہ اہل آسمان کے نزدیک آپ کالقب پہلے ہی سے صادق تھا ۔

    جعفرکے متعلق علماء کابیان ہے کہ جنت میں جعفرنامی ایک شیرین نہرہے اسی کی مناسبت سے آپ کایہ لقب رکھاگیاہے چونکہ آپ کافیض عام   نہرجاری کی طرح تھا اسی لیے اس لقب سے ملقب ہوئے۔

علامہ شبلنجی اورعلامہ محمدبن طلحہ شافعی رقمطرازہیں کہ ۱۴۷ ھ میں منصورحج کوگیا،اسے چونکہ امام کے دشمنوں کی طرف سے برابریہ خبردی جاچکی تھی کہ امام جعفرصادق(ع) تیری مخالفت کرتے رہتے ہیں،اورتیری حکومت کاتختہ پلٹنے کی سعی میں ہیں،لہذا اس نے حج سے فراغت کے بعدمدینہ کاقصدکیااوروہاں پہنچ کراپنے مصاحب خاص،ربیع سے کہاکہ جعفربن محمدکوبلوادو،ربیع نے وعدہ کے باوجودٹال مٹول کی اس نے پھردوسرے دن سختی کے ساتھ کہاکہ انہیں بلواؤ،میں کہتاہوں کہ خدامجھے قتل کرے اگرمیں انہیں قتل نہ کرسکوں، ربیع نے امام جعفرصادق کی خدمت میں حاضرہوکرعرض کی، مولاآپ کومنصوربلارہاہے، اوراس کے تیوربہت خراب ہیں،مجھے یقین ہے کہ وہ اس ملاقات میں آپ کوقتل کردے گا، حضرت نے فرمایا”لاحول ولاقوة الاباللہ العلی العظیم“ یہ اس دفعہ ناممکن ہے غرضکہ ربیع آنحضرت کولے کرحاضردربارہوا،منصورکی نظرجیسے ہی آپ پرپڑی توآگ بگولہ ہوکربولا”یاعدواللہ“ اے دشمن خداتم کواہل عراق امام مانتے ہیں اورتمہیں زکوة اموال وغیرہ دیتے ہیں اورمیری طرف ان کاکوئی دھیان نہیں، یادرکھو،میں آج تمہیں قتل کرکے چھوڑوں گا اوراس کے لیے میں نے قسم کھالی ہے یہ حالت  دیکھ کر حضرت امام جعفرصادق نے ارشادفرمایا: ایے بادشاہ،جناب سلیمان کوعظیم سلطنت دی گئی توانہوں نے شکراداکیا، جناب ایوب کو بلا میں مبتلا کیاگیاتوانہوں نے صبرکیا، جناب یوسف پرظلم کیاگیاتوانہوں نے ظالموں کومعاف کردیا، اے بادشاہ یہ سب انبیاء تھے اورانہیں کی طرف تیرانسب بھی پہنچتاہے تجھے توان کی پیروی لازم ہے، یہ سن کراس کاغصہ ٹھنڈاہوگیا۔

حضرت امام جعفرصادق علیہ السلام کی شہادت

        علماءکے مطابق ۱۵ یا 25 / شوال ۱۴۸ ھ  میں ۶۵ سال  کی عمر میں  منصور نے آپ کو زہر دیکر شہید کردیا

   علامہ ابن حجر، علامہ ابن جوزی، علامہ شبلنجی ، علامہ ابن طلحہ شافعی تحریرکرتےہیں کہ مات مسموما ایام المنصور، منصورکے زمانہ میں آپ زہرسے شہیدہوئے ہیں۔ (1)

   علماء شیعہ کااتفاق ہے کہ آپ کومنصوردوانقی نے زہرسے شہیدکرایاتھا، اورآپ کی نمازحضرت امام موسی کاظم علیہ اسلام نے پڑھائی تھی علامہ کلینی اورعلامہ مجلسی کاارشادہے کہ آپ کونفیس کفن دیاگیااورآپ کو جنت البقیع میں سپرد خاک کیا گيا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

  1. (صواعق محرقہ ص ۱۲۱ ،تذکرةخواص الامتہ ،نورالابصار ص ۱۳۳ ، ارجح المطالب ص ۴۵۰) ۔
News ID 1415242

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha